نظر امروہوی شاعری میں توانا لب و لہجے کے مالک ہیں، مشتاق احمد یوسفی
ممتاز طنز و مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے کہا ہے کہ نظر امروہوی شاعری میں توانا لب و لہجے کے مالک ہیں ان کی شاعری میں رنگ تغزل نمایاں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کر اچی کلب میں ممتاز بزرگ شاعر، نظر امروہوی کے اعزاز میں منعقد تقریب پذیرائی کے موقع پر اپنے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی تقریب ہے جس کا کوئی صدر نہیں۔انہوں نے کہا کہ نظر امروہوی عوام و خواص میں یکساں مقبول ہیں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ان کی شاعری مردوں سے زیادہ خواتین میں مقبول ہے۔ مممتاز شاعر، راغب مراد آبادی نے کہا کہ نظر امروہوی ، جگر مراد آباد کی روایت کے آخری شاعر ہیں وہ غزل کی کلاسیکی روایت کے بھی ترجمان ہیں ان کا ترنم بھی انتہائی متاثر کن ہے انہوں نے کہا کہ جگر اور نظر میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں نے کبھی لکھی ہوئی غزل نہیں پڑھی۔ اپنی اپنی غزلیں زبانی یاد ہیں ممتاز شاعر اور نقاد، پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ نظر امروہوی نے اپنی تہذیبی اقدار کو تمام زندگی عزیز رکھا، وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں انہوں نے غزل کی ترویج و ترقی کیلئے بڑا کام کیا ہے انہوں نے غزل انٹرنیشنل کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نظر امروہوی، مشاعروں کے کامیاب شاعر ہیں ان کے دو شعری مجموعے ”متاع نظر“ اور ” شعاع نظر“ شائع ہو چکے ہیں، ممتاز ادیب ، شکیل عادل زادہ نے کہا کہ نظر امروہوی کی شاعری میں تخلیقی آگہی موجود ہے۔ انہوں نے تمام زندگی سخن سرائی کی۔ انہوں نے ایسی شاعری کی ہے جو انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ نظر امروہوی نے غزل کی کلاسیکی روایت کو تابندگی عطا کی۔ وہ پیرانہ سال کے باوجود آج بھی ترو تازہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس موقع پر انور مقصود اور انجم ایاز نے بھی خطاب کیا عارف با حلیم نے نظامت کے فرائض انجام دیئے، نظر امروہوی نے اپنے مخصوص انداز میں کئی غزلیں پیش کیں۔ آخر میں معروف گلوکار، استاد سلامت علی نے نظر امروہوی کی غزلیں ساز و آواز کے ساتھ پیش کیں۔