گفتگو۔اعجاز وسیم باکھری :
کہاجاتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے لہذایہاں کسی بھی شعبے میں عورت کو اپنی صلاحیتوں کا پہلے تو اظہارکرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اگر کوئی خوش قسمت حالات کا مقابلہ کرکے کسی مقام تک پہنچ بھی جاتی ہے تو وہاں موجود مرد حضرات کارویہ اور نارواسلوک اس عورت کا وہاں رہ کر کام کرنا دوبھرکردیتا ہے،مگر اب وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کی یہ شکایت کم ہونا شروع ہوگئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی شاید کبھی ختم بھی نہ ہو۔یہ خوش آئندبات ہے کہ اب پاکستان میں خواتین تقریباً تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوارہی ہیں آج کل جن شعبوں میں خواتین سب سے زیادہ متحرک نظر آتی ہیں وہ میڈیا اور سپورٹس کے شعبے ہیں جہاں دن بدن خواتین کی بڑی تعداد ان شعبوں سے وابستہ ہورہی ہیں۔بدقسمتی سے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں کھیلوں کا معیار پستی کی جانب سے گامزن ہے جس کے بہت سے عوامل ہیں جن پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے ۔بے شمار مسائل اور مشکلات کے باوجود کھیلوں کی دنیا میں پاکستانی خواتین ہمہ وقت کوشاں نظر آتی ہیں ان میں کرکٹ ،ہاکی ،فٹبال ،سکوائش ،تیراکی ،بیڈمنٹن،ٹینس اور اتھیلٹکس شامل ہیں جن سے خواتین کی ایک بڑی تعداد وابستہ ہے۔
گزشتہ دنوں لاہور میں 40ویں نیشنل اتھلیٹکس چیمپئن شپ کے اختتام پرہم نے بہت سی خواتین کھلاڑیوں سے ان کو ملنے والی سہولیات اور پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو اکثریت کی ایک ہی رائے تھی انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے جومشکلات سپورٹس کے شعبے میں پیش آتی ہیں شاید ہی دوسروں کو دیگر شعبوں میں اتنی مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہو۔نیشنل چیمپئن شپ میں گولڈمیڈلز جیتنے والے گرلزاتھلیٹ نے ” اُردوپوائنٹ “سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جب تک حکومت اور مقامی انتظامیہ خواتین کوگراؤنڈز اور معاشی سہولیات فراہم نہیں کرتی اس وقت تک نہ تو وویمنز اتھلیٹکس میں پاکستان ترقی نہیں کرسکتاہے اور نہ ہی پاکستانی خواتین کھیلوں کے شعبے میں آگے آسکتی ہیں۔چیمپئن شپ میں 4گولڈ میڈلز حاصل کرنے والی واپڈا کی بشریٰ پروین( جو کہ مظفرگڑھ کی رہائشی ہیں) کاکہنا تھا کہ پاکستانی خواتین کسی بھی شعبے میں اپنا لوہامنوانے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہیں تاہم ہمارے معاشرے میں عورتوں کو سہولیات نہیں دی جاتیں جس سے بین الاقومی سطح پر بہت کم پاکستانی خواتین اب تک اپنے ملک کی نمائندگی کر پائی ہیں، انہوں نے کہاکہ جولڑکیاں اپنے سکول اور کالجز کے ذریعے محنت کرکے آگے آتی ہیں ان کی صحیح طو رپر کوچنگ نہیں کی جاتی اگر باٹیلنٹ لڑکیوں کی جدید طرز پر کوچنگ کی جائے تو پاکستانی خواتین انٹرنیشنل سطح پرملک کا نام روشن کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں،بشریٰ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اولمپکس گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کریں تاہم یہ اس وقت ممکن ہوگا کہ جب حکومتی سطح پر وویمنز سپورٹس کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
200میٹر ریس میں گولڈمیڈل حاصل کرنے والی پاکستان سٹیل کی صدف صدیقی (جن کا تعلق لاہور سے ہے )نے کہاکہ پاکستان بھر میں خواتین اتھلیٹس کیلئے گراؤنڈز نہ ہونے کی وجہ سے لاتعداد بہترین کھلاڑی ضائع ہوجاتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو کھیلوں کی جانب متوجہ کرنے کیلئے سکول اور کالج سطح پر کھلاڑیوں کو سہولیات دی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لڑکیاں سپورٹس کی طرف آئیں۔صدف نے مزید بتایا کہ قومی اداروں کو چاہیے کہ وہ براہ راست خواتین کھلاڑیوں کو سپانسر کریں تاکہ وہ معاشی فکر سے آزاد ہو کر اپنے کھیل پر توجہ دیں سکیں،صدف کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کارکردگی سے بالکل مطمئن ہیں تاہم اگلی مرتبہ وہ اس سے بھی اچھا کھیل پیش کرنے کی کوششیں کرینگی۔چارسومیٹر رکاوٹوں والی دوڑ میں گولڈمیڈل حاصل کرنے والی واپڈاکی نادیہ نذیر(جوساہیوال کی رہائشی ہیں) نے مطالبہ کیا کہ نیشنل چیمپئن شپ کے مقابلے تو سال میں ایک مرتبہ ہوتے ہیں تاہم اسی طرز کے ایونٹ سال میں دو سے تین مرتبہ منعقدکیے جانے چاہیں تاکہ اتھلیٹس کی توجہ کھیل کی جانب مبذول رہے ۔نادیہ نے مزید بتایا کہ سرکاری سطح پر ان کی کہیں مدد نہیں کی جاتی اور نہ ہی انہیں کوئی سہولیات دی جاتی ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا ڈیپارٹمنٹ واپڈا انہیں نہ صرف سپانسر کرتا ہے بلکہ مستقل طور پر ملازمتیں بھی دی رکھی ہیں جس سے ان کے بہت سے سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں تاہم وفاقی سطح پر اور پاکستان سپورٹس بورڈ کو خواتین کھلاڑیوں کیلئے اقدامات کرنے چاہیں ۔نادیہ کا کہنا تھا کہ ہر اتھلیٹ کی طرح وہ بھی اولمپکس گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کی خواہش مند ہیں جس کیلئے وہ ہرایونٹ میں بہترین پرفارمنس پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں نادیہ نے بتایا کہ ان کی فیملی انہیں مکمل سپورٹ کررہی ہے اور میری کامیابی پر تمام گھروالے اور رشتہ داربھرپورطریقے سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
قارئین یہ تو تھیں چند وہ خوش قسمت کھلاڑی جو اپنے شعبے میں نام پیدا کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں مگر بہت سے ایسی باٹیلنٹ لڑکیاں اب بھی سینکڑوں کی تعدادمیں موجود ہیں جو مالی مشکلات ،گھرسے اجازت نہ ملنے اور مناسب کوچنگ کی عدم فراہمی کی وجہ سے گمنامی کا شکار ہیں۔یہ مسائل محض سپورٹس ہی میں نہیں ہر اس شعبوں میں موجود ہیں جن سے خواتین وابستہ ہیں،ملکی کی ترقی کیلئے خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،ان کے مسائل پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ نہ صرف فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بلکہ میرٹ کو ترجیح دئیے بغیر بھی ترقی ممکن نہیں ہے۔